غزل

تمہاری چاہ میں حد سے گزر گیا تو پھر؟
ہمارا دل تیری دنیا سے بھر گیا تو پھر؟

سنا ہے کچھ بھی نہیں یاد اب رہا تجھ کو
جو اپنے وعدوں سے میں بھی مکر گیا تو پھر؟

یہ ٹھیک ہے کے محبت میں لٹ چکے ہیں ہم 
مگر یہ حال ہمارا سنور گیا تو پھر؟ 

ہمارے دل پہ حکومت ہے ان دنوں تیری
جو تو بھی دل سے ہمارے اتر گیا تو پھر؟

وفا کی راہ پہ ہم تم رواں تو ہیں لیکن 
ہمارا سارا سفر بے ثمر گیا تو پھر؟

نہیں عجیب کے میں ٹوٹ کر بھی زندہ ہوں 
میری طرح سے جو تو بھی بکھر گیا تو پھر؟

وہ شخص جس سے گریزاں ہے تو بہت واثق 
تیری جدائی میں اک روز مر گیا تو پھر؟

ایک بلا

عامر کہاں جا رہے ہو؟

باہر دادی.

باہر کہاں؟

پارک تک دادی.

کوئی ضرورت نہیں جانے کی. گھر بیٹھو.

مگر کیوں… ابھی تو بازار بھی کھلے ہیں!

میں نے کہے دیا نا! اب ضد مت کرو.

پر دادی

بیٹا اس وقت رات ہو چکی ہے.

تو؟

تو یہ کہ اس وقت آسمان سے بلائیں اترتی ہیں اور….

اور؟

اور بچوں کو اٹھا کر لے جاتی ہیں.

جب چھوٹا تھا تب دادی یہ سب کہا کرتی تھیں. شام بلخصوص مغرب کے بعد باہر نکلنا تو ایک ناممکن بات تھی. اپنے اس عقیدے کو ثابت کرنے کا ان کے پاس کوئی طریقہ تو نہیں تھا مگر پھر بھی شام کو ان کے سامنے باہر جانا تو سارا بچپن ممکن نہیں رہا. بڑے ہونے کے ساتھ میں دادی کی گرفت سے نکل گیا. اور شام کو باہر جانا اور باہر رہنا ممکن ہو گیا. اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد دادی کی انتقال ہو گیا لیکن اپنے آخری ایام تک انکے عقائد وہی رہے. تب بھی اگر کوئی شام کو باہر جانے لگتا تو اسکو روکتیں اور یہی آسمان سے بلائیں اترنے والی بات کہتیں. مجھے انکی اس بات پر کبھی یقین نہیں رہا. مگر اس گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد جب میرا کالج کھلا تو شام کو میں کچھ سامان لینے گھر سے باہر گیا. شہر کے حالات اچانک خراب ہو گئے. میں فورا گھر کو پلٹا. جب سکون سے گھر پہنچ گیا تو احساس ہوا کہ آج ایک ماہ بعد ایک بلا باہر نکلی تھی.اور اسکے باہر نکلنے سے پورا شہر آفت میں آ گیا. اتنے سال بعد دادی کی بات ثابت ہو گئی. اب یقین آیا کہ بزرگ ٹھیک ہی کہتی تھیں.

٢٠١٥ میں اس بلا کی شادی ہو گی اور اس کے شوہر نے اس بلا کو اب دیکھنے میں بھی ایک بلا بنا دیا ہے. یہ الگ بات ہے کہ اب اس بلا کا صرف وزن ہے کسی کو مارنے کے لئے کافی ہے.

غزل

یہ دِل کسی بھی طرح شامِ غم گزار تو دے
پھر اس کے بعد وہ عمروں کا انتظار تو دے

ہوائے موسمِ گُل جانفزا ہے اپنی جگہ
مگر کوئی خبرِ یارِ خوش دیار تو دے

ہمیں بھی ضد ہے کہاں عمر بھر نبھانے کی
مگر وہ ترکِ تعلق کا اختیار تو دے

بجا کہ درد سری ہے یہ زندگی کرنا
مگر یہ بارِ امانت کوئی اُتار تو دے

ترا ہی ذکر کریں بس تجھی کو یاد کریں
یہ فرصتیں بھی کبھی فکرِ روزگار تو دے

ترے کرم بھی مجھے یاد ہیں مگر مرا دل
جو قرض اہلِ زمانہ کے ہیں اُتار تو دے

فلک سے ہم بھی کریں ظلمِ ناروا کے گِلے
پہ سانس لینے کی مہلت ستم شعار تو دے

فرازؔ جاں سے گزرنا تو کوئی بات نہیں
مگر اب اس کی اجازت بھی چشمِ یار تو دے

اردو

Urdu always fascinated me, especially poetry. The beauty of poetry and the ebb and flow in it as a medium are no less than magic. As a child, I had read some Amr Ayyar series of books. The system of education system which I followed had Urdu compulsory. Many disliked it being a must but for me I always loved it. Once in an annual exam, I scored least marks in Urdu which made a teacher say that Aamir scores 99 in Chemistry, Physics and even Biology but 50 in Urdu especially when he loves Urdu is beyond logic. That didn’t lessen my interest for it. Language is as dynamic as life itself. The type of Urdu we speak everyday is evolving. I don’t apprehend or like the idea of Roman Urdu. No. Just no. It is a murder of art. Being a student of life still, I am learning with everyday including Urdu. But people deliberately making mistakes of grammar and expressions just to look more cool and filmy like those dirty BHAI LOG from the crappy-wood cinema industry is an injustice people keep doing to Urdu. The normal man’s Urdu is no longer just normal. When I planned to write a book, I wanted to write at least half of it in Urdu. It’s just the usage. If you won’t use a thing, that will simply go out of fashion first and then forgotten. But still there are Urdu lovers who are doing for the good of the language. I remember that day very vividly when I sneaked out of school just to buy a poetry book and come back to school unnoticed and my heart was beating violently when the size of Shehar-e-Sukhan Aarasta Hai was hard to hide. I didn’t expect that at all. And that was a joy I enjoy even today. Even that day is so fresh in my mind when I was asked to just go to any bookshop immediately and get a novel. I obediently did so. It took me two days to finish it. I liked the thrill of the story and the medium in which it existed. I’ve not read that after the initial reading yet it is a favorite.

غزل

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں

یاد کیا تجھ کو دلائیں ترا پیماں جاناں

یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا ہے

کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں

زندگی تیری عطا تھی سو ترے نام کی ہے

ہم نے جیسے بھی بسر کی ترا احساں جاناں

دل یہ کہتا ہے کہ شاید ہے فسردہ تو بھی

دل کی کیا بات کریں دل تو ہے ناداں جاناں

اول اول کی محبت کے نشے یاد تو کر

بے پیے بھی ترا چہرہ تھا گلستاں جاناں

آخر آخر تو یہ عالم ہے کہ اب ہوش نہیں

رگ مینا سلگ اٹھی کہ رگ جاں جاناں

مدتوں سے یہی عالم نہ توقع نہ امید

دل پکارے ہی چلا جاتا ہے جاناں جاناں

ہم بھی کیا سادہ تھے ہم نے بھی سمجھ رکھا تھا

غم دوراں سے جدا ہے غم جاناں جاناں

اب کے کچھ ایسی سجی محفل یاراں جاناں

سر بہ زانو ہے کوئی سر بہ گریباں جاناں

ہر کوئی اپنی ہی آواز سے کانپ اٹھتا ہے

ہر کوئی اپنے ہی سائے سے ہراساں جاناں

جس کو دیکھو وہی زنجیر بہ پا لگتا ہے

شہر کا شہر ہوا داخل زنداں جاناں

اب ترا ذکر بھی شاید ہی غزل میں آئے

اور سے اور ہوئے درد کے عنواں جاناں

ہم کہ روٹھی ہوئی رت کو بھی منا لیتے تھے

ہم نے دیکھا ہی نہ تھا موسم ہجراں جاناں

ہوش آیا تو سبھی خواب تھے ریزہ ریزہ

جیسے اڑتے ہوئے اوراق پریشاں جاناں

July 1, 2003 / 04:02 PM / Lahore