راستے جس طرف بلاتے ہیں

ہم اسی سمت چلتے جاتے ہیں

روز جاتے ہیں اپنے خوابوں تک

روز چپ چاپ لوٹ آتے ہیں

اڑتے پھرتے ہیں جو خس و خاشاک

یہ کوئی داستاں سناتے ہیں

یہ محبت بھی ایک نیکی ہے

اس کو دریا میں ڈال آتے ہیں

یاد کے اس کھنڈر میں اکثر ہم

اپنے دل کا سراغ پاتے ہیں

شام سے جل رہے ہیں بے مصرف

ان چراغوں کو اب بجھاتے ہیں

August 26th, 2018 / 7:26 PM

 

ردیف قافیہ بندش خیال لفظ گری
وہ حور زینہ اترتے ہوئے سکھانے لگی

کتاب باب غزل شعر بیت لفظ حروف
خفیف رقص سے دل پر ابھارے مست پری

کلام عروض تغزل خیال ذوق جمال
بدن کے جام نے الفاظ کی صراحی بھری

قصیدہ شعر مسدس رباعی نظم غزل
مہکتے ہونٹوں کی تفسیر ہے بھلی سے بھلی

بیان علم معانی فصاحت علم بلاغ
بیان کر نہیں سکتے کسی کی ایک ہنسی

حریر اطلس و کمخواب پنکھڑی ریشم
کسی کے پھول سے تلووں سے شاہ مات سبھی

گلاب عنبر و ریحان موتیا لوبان
کسی کی زلف معطر میں سب کی خوشبو ملی

کسی کے مرمریں آئینے میں نمایاں ہیں
گھٹا بہار دھنک چاند پھول دیپ کلی

کسی کے شیریں لبوں سے ادھار لیتے ہیں
مٹھاس شہد رطب چینی قند مصری ڈلی

کسی کے نور کو چندھیا کے دیکھیں حیرت سے
چراغ جگنو شرر آفتاب پھول جھڑی

کسی کے حسن کو بن مانگے باج دیتے ہیں
وزیر میر سپاہی فقیہ ذوق شہی

نگاہیں چار ہوئیں وقت ہوش کھو بیٹھا
صدی دہائی برس ماہ روز آج ابھی

سیاہ زلف گھٹا جال جادو جنگ جلال
فسوں شباب شکارن شراب رات گھنی

ظریف ابرو غضب غمزہ غصہ غور غزل
گھمنڈ قوس قضا عشق طنز نیم سخی

گلابی گال شفق سیب سرخی غازہ کنول
طلسم چاہ بھنور ناز شرم نرم گری

نشیلی ٹھوڑی تبسم ترازو چاہ ذقن
خمیدہ خنداں خجستہ خمار پتلی گلی

گلا صراحی نوا گیت سوز آہ اثر
ترنگ چیخ ترنم ترانہ سر کی لڑی

ہتھیلی ریشمی نازک ملائی نرم لطیف
حسین مرمریں صندل سفید دودھ دھلی

جو اس پہ بوند گری ابر کپکپا اٹھا
اس ایک لمحے میں کافی گھروں پہ بجلی گری

قیامت آ گئی خوشبو کی کلیاں چیخ پڑیں
گلاب بولا نہیں غالباً وہ زلف کھلی

کمال‌ لیلیٰ تو دیکھو کہ صرف نام لیا
”پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی”

عطائے حسن تھی قیسؔ اک جھلک میں شوخ غزل
کتاب لکھتا میں اس پر مگر وہ پھر نہ ملی

 

March 9th, 2018 / 06:11 PM

دل کو توفیق زیاں ہو تو غزل ہوتی ہے
زہر غم بادہ چکاں ہو تو غزل ہوتی ہے 

فکر تپ تپ کے نکھرتی رہے کندن کی طرح 
آگ سینے کی جواں ہو تو غزل ہوتی ہے 

دھیمی دھیمی سی نوا سلسلہ جنبان ابد 
پردۂ جاں میں نہاں ہو تو غزل ہوتی ہے 

دھڑکنیں صورت الفاظ بکھرتی جائیں 
دل معانی کی زباں ہو تو غزل ہوتی ہے 

آنچ مٹی کے کھلونوں کی طرح ملتی جائے 
ذہن خوابوں سے تپاں ہو تو غزل ہوتی ہے 

روزن ماہ سے پچھلے پہر اک شوخ لقا 
جانب دل نگراں ہو تو غزل ہوتی ہے 

روح شب اپنی اداؤں کی تب و تاب لیے 
خلوت آرائے بیاں ہو تو غزل ہوتی ہے 

ایک سیال کسک جادہ کشائے تخلیق 
فن کی نبضوں میں رواں ہو تو غزل ہوتی ہے 

تجربے درد کی شبنم میں نہائیں حرمتؔ 
گل فشاں شعلۂ جاں ہو تو غزل ہوتی ہے
حرمت الااکرام
 

February 28th, 2018 / 02:11 PM

دل ہے ویران بیاباں کی طرح
گوشۂ شہر خموشاں کی طرح

ہائے وہ جسم تہ خاک ہے آج
جس نے رکھا تھا ہمیں جاں کی طرح

صاحب خانہ سمجھتے تھے جسے
چل دیا گھر سے وہ مہماں کی طرح

چاند سورج کا گماں تھا جس پر
بجھ گیا شمع شبستاں کی طرح

سایۂ عاطفت اب سر پہ نہیں
سایۂ ابر گریزاں کی طرح

ہے اگر اپنا مقدر بھی تو ہے
تنگ بس تنگئ داماں کی طرح

عمیق حنفی

February 20th, 2018 / 2:46 pm

ہم کہ جو بیٹھے ہوئے ہیں اپنے سر پکڑے ہوئے
آپ ہی زنجیر ہیں اور آپ ہی جکڑے ہوئے

شام پیلی راکھ میں خون شفق کا انجماد
رات جیسے خواب یخ بستہ ہوں دن اکڑے ہوئے

رنگ کے پہرے ہیں رخساروں کی آب و تاب پر
اور رنگوں کو ہیں زلفوں کی لٹیں جکڑے ہوئے

دھوپ نے ناخن ڈبوئے ہیں گلوں کے خون میں
زخم خوردہ خوشبوئیں پھرتی ہیں سر پکڑے ہوئے

رات کالی رات پیڑوں کو ہلاتی آندھیاں
اور ہم بیٹھے طناب خواب ہیں پکڑے ہوئے

عمیق حنفی

January 25th, 2018 / 09:15 AM / Karachi

تشنگی بے سبب نہیں ہوتی

مے کشی بے سبب نہی  ہوتی

 

محتسب خود بھی اس کا قائل ہے

زندگی بے سبب نہیں ہوتی

 

دوستی بھی کبھی رہی ہوگی

دشمنی بے سبب نہیں ہوتی

 

گھر جلا ہے یا دل جلا ہے کوئی

روشنی بے سبب نہیں ہوتی 

 

دخل ہوتا ہے کچھ نظر کو بھی

دلکشی بے سبب نہیں ہوتی

 

کسی طوفان کی آمد آمد ہے

خامشی بے سبب نہیں ہوتی

 

کیا کسی کے ہو منتظر محسن

بے کلی بے سبب نہیں ہوتی

یہ دل کسی بھی طرح شام غم گزار تو دے





یہ دل کسی بھی طرح  شام غم گزار  تو  دے
پھر اس کے بعد وہ عمروں کا انتظار تو دے


ہواۓ  موسم  گل   جانفزا  ہے   اپنی   جگہ
مگر  کوئی  خبر   یار خوش   دیار تو  دے


ہمیں بھی ضد ہے کہاں عمر بھر نبھانے کی
مگر  وہ  ترک تعلق   کا   اختیار  تو  دے


بجا ہے کہ درد سری ہے  یہ زندگی  کرنا
مگر  یہ  بار امانت  کوئی    اتار   تو دے


تیرا ہی ذکر کریں   بس تجھی کو یاد کریں
یہ فرصتیں بھی کبھی فکر روزگار تو دے


تیرے کرم بھی مجھے یاد ہیں مگر مرا دل
جو  قرض  اہل زمانہ کے  ہیں اتار تو دے


فلک سے ہم بھی کریں ظلم ناروا کے گلے
پہ سانس لینے کی مہلت ستم شعار تو دے


فراز  جان  سے  گزرنا  تو  کوئی  بات نہیں
مگر اب اس کی اجازت بھی چشم یار تو دے


.

غزل

تمہاری چاہ میں حد سے گزر گیا تو پھر؟
ہمارا دل تیری دنیا سے بھر گیا تو پھر؟

سنا ہے کچھ بھی نہیں یاد اب رہا تجھ کو
جو اپنے وعدوں سے میں بھی مکر گیا تو پھر؟

یہ ٹھیک ہے کے محبت میں لٹ چکے ہیں ہم 
مگر یہ حال ہمارا سنور گیا تو پھر؟ 

ہمارے دل پہ حکومت ہے ان دنوں تیری
جو تو بھی دل سے ہمارے اتر گیا تو پھر؟

وفا کی راہ پہ ہم تم رواں تو ہیں لیکن 
ہمارا سارا سفر بے ثمر گیا تو پھر؟

نہیں عجیب کے میں ٹوٹ کر بھی زندہ ہوں 
میری طرح سے جو تو بھی بکھر گیا تو پھر؟

وہ شخص جس سے گریزاں ہے تو بہت واثق 
تیری جدائی میں اک روز مر گیا تو پھر؟

غزل

یہ دِل کسی بھی طرح شامِ غم گزار تو دے
پھر اس کے بعد وہ عمروں کا انتظار تو دے

ہوائے موسمِ گُل جانفزا ہے اپنی جگہ
مگر کوئی خبرِ یارِ خوش دیار تو دے

ہمیں بھی ضد ہے کہاں عمر بھر نبھانے کی
مگر وہ ترکِ تعلق کا اختیار تو دے

بجا کہ درد سری ہے یہ زندگی کرنا
مگر یہ بارِ امانت کوئی اُتار تو دے

ترا ہی ذکر کریں بس تجھی کو یاد کریں
یہ فرصتیں بھی کبھی فکرِ روزگار تو دے

ترے کرم بھی مجھے یاد ہیں مگر مرا دل
جو قرض اہلِ زمانہ کے ہیں اُتار تو دے

فلک سے ہم بھی کریں ظلمِ ناروا کے گِلے
پہ سانس لینے کی مہلت ستم شعار تو دے

فرازؔ جاں سے گزرنا تو کوئی بات نہیں
مگر اب اس کی اجازت بھی چشمِ یار تو دے