ذرّہ Zarrah

بکسے سے آج وہ کتاب نکلی جو اس سے آخری ملاقات کے بعد سفر میں ساتھ تھی. پھر کتنے موسم بے رنگ گزرے. نہ اس لمحے کا نقش بدلا نہ اس دوپہر کا رنگ. جیسے کتاب کے باہر بھی کچھ ضرور رہ گیا جس پر وقت کا زنگ بے اثر ہے. ایک کہانی کتاب کے اندر قید تھی جس کے کردار آج بھی لمحات اور حالات میں وہیں معلق ہیں. ایک کہانی کتاب کے باہر تھی جس کا یہ ایک بے وقعت ذرّہ ہے. وقت کل کو ہیروں کو بھی خاک کر دے گا اور یہ دور ذرّہ پروروں کی کنگالی کا دور ہے. جذبات کو آزادی دینے کے ساتھ ذرات کو بکھرنے سے بچانے کا کام بھی سیاہی کے ایک ذرے نے ہی کیا. یہ اس ذرے کی کہانی ہے.