دل کا مالک

گھر کا مالک گھر میں رہتا ہے. لیکن دل کا مالک دل میں نہیں رہتا. اس کے گھومنے کی عادت اسے خون کی طرح گردش میں رکھتی ہے. جب وہ آنکھوں تک پہنچتا ہے تو ہر جگہ دکھائی دینے لگتا ہے، ہر چہرے میں اپنی مماثلت بناتا ہے. بادل بھی اس کے زیر اثر ہو جاتے ہیں تب ہی تو ان میں بھی وہی نظر آتا ہے. جب گردش کرتا کانوں تک پہنچتا ہے تو کانوں میں بھی اور گانوں میں بھی اسی کی آواز سنائی دیتی ہے. سڑک پر دل افسردہ کر دینے والا ٹریفک کا شور بھی غائب ہو جاتا ہے. کچھ سنائی دیتا ہے تو صرف اس کی آواز جس میں سب آوازیں گم ہو چکی ہوتی ہیں. گردش اسے زبان تک ضرور لے جاتی ہے لیکن دنیا کو بھی نظر نہ آ جائے، وہ الفاظ کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے. باتوں کے جادو کو جان وہی تو دیتا ہے. پھر دوڑتا ہوا پھیپڑوں میں سانس بن جاتا ہے تو جگر میں جان. اس کا روٹھ جانا بھوک بھی مٹا دیتا ہے. اور بھی اعضاء ہیں جہاں قدم رکھتے وہ ہر اس جذبے کو بھڑکتا ہے جس کے لیے قدرت نے وہ اعضاء بنائے. واپس دل تک پہنچنے سے پہلے وہ دماغ اور ذہن تک لازمی آتا ہے.اس کے ذہن میں آنے کی وجہ سے تو یہ الفاظ بھی پیدا ہوئے. میں اکیلا تو نہیں جس نے اس کے بارے میں کچھ لکھا. بازار بھرے پڑے ہیں ان کتابوں سے جو اس کے ذہن تک پہنچنے کے بعد تخلیق ہوئیں. آخر وہ دل تک واپس آ ہی جاتا ہے اور بنا دستک اندر بھی داخل ہو جاتا ہے. مالک جو ٹھہرا. میں کونے میں بیٹھا یہ تماشا دیکھتا رہتا ہوں.

Originally published on June 3rd, 2021 at 12:17am