سچ

ایک دوست تھا جو سچ سنتے ہی بھڑک جایا کرتا. اس کے غصے کی آگ سے بچنے کے لیے جھوٹ کا کوٹ پہننا لازمی ہو گیا. اس کی آگ تو کم ہوتی گئی لیکن ہر بار جھوٹ بولنے پر کوٹ کا وزن بھی بڑھ جاتا اور کوٹ جلد کی کچھ جگہ خود لے لیتا. پھر وہی ہوا جو ہونا تھا. جلد کی جگہ کوٹ نے لے لی. اس کی سچ کو نہ سمجھ سکنے، نہ برداشت کر سکنے اور نہ ہضم کر سکنے کی قیمت ذات پر بڑھتے ہوئے بوجھ کے روپ میں رونما ہوئی. ایک دن جب اس نے چھونے کی غرض سے مجھے ہاتھ لگایا تو اسے جلد کی جگہ وہ ملا جو اب میری اس ذات کا حصہ بن چکا تھا جو اس کی زندگی میں تھی. اسے اس کی کچھ توقع تو تھی لیکن اتنی نہیں. پھر وہ جھوٹے کا طعنہ دے کر چلا گیا. کوئی نہیں سمجھ سکتا حالات اور موسم کی گرمی میں کوٹ پہننا کس قدر جان جوکھوں کام ہے. اس پر سے بوجھ جو گھٹتا ہی نہیں. پھر کسی دوسرے دوست سے ملتا ہوں جو سچ سنتا بھی ہے، سمجھتا بھی ہے اور ہضم بھی کر لیتا ہے. آئینے میں نظر آنے والے اولڈ فرینڈ نے بھی کوئی کوٹ نہیں پہنا. 

سچ برداشت نہ کر سکنے والے دوستوں کے نام.