شہر

اب ہم دونوں اس شہر میں نہیں رہتے. لیکن کتنے اور ہیں جو وہاں رہتے ہیں. شہر تو وہی ہے لیکن اس کے مکین بدل چکے ہیں. کبھی لگتا تھا کہ یہ سب ہمارا ہے. اب حقیقت صاف نظر آتی ہے. کسی اور نے بھی یوں ہی سوچا تھا. ہم نے اس کی جگہ لے لی. پھر ہم نے بھی یہی سوچا اور کسی نے ہماری جگہ لے لی. پھر کوئی اور اس کی جگہ لے گا اور شہر وہی رہے گا. 

تغیر

سورج کے نکلنے کو دن نہیں کہتے. کچھ روشنی اندر بھی پھوٹے تب ہی دن ہوتا ہے. سورج کے ڈوب جانے کو بھی رات نہیں کہتے کہ کبھی کبھی اجالا شام کے بعد بھی رہتا ہے. اندر کے اندھیروں کے بدلنے سے ہی باہر کے شب و روز معنی رکھتے ہیں. 

سب فون

اب نیا فون خریدتے وقت خوشی نہیں ہوتی۔ دکان سے باہر نکلنے سے پہلے ہی جدت طرازی ختم ہو جاتی ہے۔ پھر جنوں پرست مجھے فون آن رکھنے بھی نہیں دیتے۔ آن ہو بھی گیا تو لوگ بھی وہی، روگ بھی وہی اور میں؟ کُچھ دیر کو ہی سہی، دِل ایک نئے عشق کا متلاشی ہے۔ ایک دن کا ہی ہو لیکن ان زنجیروں سے فرار تو ہو۔ کم بخت اب تو حسن بھی بے اثر نظر آتا ہے۔ سب فون اب ایک سے لگتے ہیں۔

مکالمہ

Saturday, May 29th, 2021

نیلے رنگ کے پتھروں سے تراشے ہوئے کنگن اس کے کلائیوں پر جچیں گے. یا پھر وہ ان کو بھی کسی دراز میں رکھ کر “کوئی تقریب ہو گی تو پہنوں گی” کا ورد کرنے لگی گی. یا تہذیب کو کسی گڑھے میں دفنا کر خود سے اس کو پہنا دینا ایک نامناسب لیکن لازمی عمل ہو گا جو مجھے کرنا ہی پڑے گا. ابھی میں دکان پر کھڑا یہی سوچ رہا تھا کہ ایک خاتون نے آگے بڑھ کر وہی جوڑی اٹھا لی. اور فورا ان کی قیمت ادا کر کے چلتی بنی. دکاندار مجھے دیکھ کر مسکرایا اور ملازم کو بول کر اوپر سے ایک نئی جوڑی لے آیا. وہ میری ایک کیفیت کو تو سمجھ گیا لیکن باقی سوال کو بھلا کیسے سمجھ سکتا. یوں میرے ہفتے کی شام تمام ہوئی. لیکن باقی سوالوں کے جواب ابھی باقی ہیں. کیونکہ
مکالمہ بحال نہیں. تاحال نہیں

سچ

ایک دوست تھا جو سچ سنتے ہی بھڑک جایا کرتا. اس کے غصے کی آگ سے بچنے کے لیے جھوٹ کا کوٹ پہننا لازمی ہو گیا. اس کی آگ تو کم ہوتی گئی لیکن ہر بار جھوٹ بولنے پر کوٹ کا وزن بھی بڑھ جاتا اور کوٹ جلد کی کچھ جگہ خود لے لیتا. پھر وہی ہوا جو ہونا تھا. جلد کی جگہ کوٹ نے لے لی. اس کی سچ کو نہ سمجھ سکنے، نہ برداشت کر سکنے اور نہ ہضم کر سکنے کی قیمت ذات پر بڑھتے ہوئے بوجھ کے روپ میں رونما ہوئی. ایک دن جب اس نے چھونے کی غرض سے مجھے ہاتھ لگایا تو اسے جلد کی جگہ وہ ملا جو اب میری اس ذات کا حصہ بن چکا تھا جو اس کی زندگی میں تھی. اسے اس کی کچھ توقع تو تھی لیکن اتنی نہیں. پھر وہ جھوٹے کا طعنہ دے کر چلا گیا. کوئی نہیں سمجھ سکتا حالات اور موسم کی گرمی میں کوٹ پہننا کس قدر جان جوکھوں کام ہے. اس پر سے بوجھ جو گھٹتا ہی نہیں. پھر کسی دوسرے دوست سے ملتا ہوں جو سچ سنتا بھی ہے، سمجھتا بھی ہے اور ہضم بھی کر لیتا ہے. آئینے میں نظر آنے والے اولڈ فرینڈ نے بھی کوئی کوٹ نہیں پہنا. 

سچ برداشت نہ کر سکنے والے دوستوں کے نام. 

Hard

Saday kol te iPhone v nahin.

Life’s hard. 

But really, is it? Not all of our dreams are destined to become true. One way of lessening the feeling of life being hard is to have fewer dreams in the first place. Not all heavens can exist on the path destiny set for us to walk – life. No amount of dedication can make someone a Prophet, can it? Life is a ride that passes through sad and happy towns. Happiness is not just living moments in happier towns, but it also is one riding away from the sad ones. One having a bedroom larger than the entire house of many and an iPhone too to Tweet sorrows of life is something that is not hard to apprehend. One might be facing other challenges like depression for instance, or a loved one who has constantly failed to listen and improve. Can that house in an upscale neighborhood or the latest ride cure those sorrows that keep growing inside, like tumors? Dreams are good. Growing too many dreams simultaneously can be a disaster. As years are proceeding, the dreams that can now never become real are increasing. I remember having felt this feeling already.

سب خواہشات
https://www.flickr.com/photos/aamirbilal/50216731071

I have an Android. I migrated from the bad Apple just because it was too hard (not impossible) to record phone calls on Apple. Now, when I am not able to talk to those who mattered and still matter, I listen to the older recordings that I have accumulated over the years and relive the happier moments. It is like reading old letters. Sadly, all good songs end. Then I leave the happy town I was living in for a moment. I am glad I never tweeted anything similar about life like it is hard. Some hunters would, like always, disagree.

Aamir Bilal

دعا

اتنا ہی وقت دشمن کے مرنے کی دعا کرنے میں لگے گا جتنا وقت دوست کی لمبی اور پرسکون زندگی کی دعا میں لگے گا. لیکن بدلے ہوئے دوست کو پھر سے بدلنے کی دعا کا وقت اب بھی چل رہا ہے.