اقتدار

May 31st, 2021

ہر آمر نے اقتدار کے عرصے کو بڑھانے کی کوشش کی. اس کے لیے جائز اور ناجائز ہر حربے کو استعمال کیا. کچھ نے کرسی کو صرف تب چھوڑا جب جنازہ تیار ہوا. طاقت میں رہنے کی لالچ ہر دوسری لالچ کے جیسی ہے. اس کی سیاہی دل کو اندھا کر دیتی ہے. میری یونیورسٹی کے وائس چانسلر چار بار سیاسی راستوں سے توصیح لے کر ایک عدد عمدہ مثال قائم کر چکے ہیں. ریل کے سفر کے دوران بھی ایسی دیواریں نظر آتی ہیں جن پر عاملوں اور کاہنوں کے اشتہار لکھے ہوتے ہیں. ان ڈھونگیوں کے گاہکوں میں کثیر تعداد ان خواتین کی ہے جن کی گھریلو اقتدار کی لالچ ان کو وہاں تک لے جاتی ہے. وہ لالچ چاہتی ہے کہ شوہر اندھا ہو کر فالج زدہ ہو کے جان سے جاتا ہے تو جائے لیکن اس کرسی پر ان کے بعد کوئی اور نہ بیٹھے جس پر وہ بیٹھ چکی ہیں. کلاس میں یا کالج میں سب سے زیادہ نمبر لینے والوں کی نفسیات بھی لالچ کے ایک رنگ کی ترجمان ہے. پھر اس کی دشمنی لوگوں کو کیوں سمجھ نہیں آتی جو عرصۂ طویل تک سردار رہا. پھر ایک دن اس سے کم خوبیوں والے کو اس کی جگہ بیٹھا دیا گیا. پھر یہ بھی کہا گیا کہ اس آسانی سے بیوقوف بن جانے والے، گناہ کی سکت رکھنے والے کو تعظیم دو. عاشق مزاج ہونے کا کم از کم یہ کمال تو ہے کہ وہ کسی کو کبھی دل کی جنت سے نہیں نکالا کرتے. ان کی جنت میں وہ بھی رہا اور وہ بھی رہا. جو گیا وہ خود سے روٹھ کر گیا. اب بھی پلٹے گا تو دروازوں کو کھلا ہی پائے گا. صرف ایک بار کسی کو خود کے دل کی جنت سے نکالنے کی کوشش کی تھی. مگر ہر تدبیر دھواں ہوئی. شاید اس کا وزن اور حجم اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ دروازوں میں سے اب گزر بھی نہ سکے. شیطان نے ساتھ بیٹھے ہاں میں سر ہلا کر اس جذبے کی قدر کی.