ہاسٹل والا کمرہ / The Hostel Room

May 30th, 2021

وہ شاعر کتنی آسانی سے سمجھ بھی آ جاتا ہے اور پسند بھی جس کو ہم ہم خیال پاتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ وہ گانے بھی ہم بار بار سنتے ہیں جو وہ سب جذبات کہتے ہوں جو ہم نہیں کہے سکتے. ہفتے کے بعد موسیقی کا ایک ڈھیر جمع ہو جاتا ہے جس کو چھانٹ کر صاف کرنے میں ذہن لگتا ہے. یہ کوئی راحت افزا کام نہیں. پھر بھی ہیرے کی تلاش میں بےوقعت کنکروں سے روبرو ہونا پڑتا ہے. ہاسٹل کو چھوڑتے وقت ایک عجیب سی کیفیت تھی. اسے وہی سمجھ سکتا ہے جس نے ہاسٹل کو چھوڑا ہو. کنکروں میں ایک نگینہ مل گیا جو ہاسٹل کی یاد میں تخلیق ہوا. میں نے ہاسٹل کی کسی دیوار پر کسی کا نام نہیں لکھا سواۓ اپنے اور لالے کے نام کے اور وہ بھی غیر موجودگی کی حالت میں ڈاک وصول کرنے کے لیے کمرے کے دروازے پر لکھ رکھے تھے. اس کے باوجود دیواروں پر نام لکھے نظر آئے جب ہاسٹل کو چھوڑنے کا وقت تھا. اس کا نام بھی نظر آیا جس نے ایک چھوٹا سا خط بھیجا تھا اور ساتھ کوئی بیس کے قریب اپنی تصویریں بھی بھیجی تھیں. اس کا نام بھی نظر آیا جس نے رات دو بجے نقلی موچھیں لگا کر قریبی عزیز بن کر ہاسٹل کے کمرے تک پہنچنے کی شرط جیتی تھی. کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ پھر اسے ہاسٹل سے باہر نکالنا کتنا مشکل کام تھا. اس کا نام بھی دکھائی دیا جس نے ہمیں رش سے بچانے کی خاطر اپنی چھٹیاں منسوخ کر کے یونیورسٹی کا چکر لگایا اور اپنی زندگی کی خدا طرفہ بخشی ہوئی برتری کو استعمال کر کے ہمارا وقت بچایا اور پھر وہی وقت خود لے لیا. ایک نام میرا نام لکھنے میں ہمیشہ غلطی کرتا رہا. تب ہی تو اس نام کی طرف سے بھیجا گیا ہر مراسلہ خود جی پی او جا کر وصول کرنا پڑتا تھا. بعد میں مجھے پتا چلا کہ بیچ کا قاصد اس کا ملازم ہے اور وہ ٹھہرا ان پڑھ. ڈاکیا جس عمار کو ڈھونڈنے آتا وہ بھلا اس کو کیسے ملتا. اس کا نام بھی ابھرا جس کی خاطر خدا پرست کو بھی مزار کی زیارت کرنی پڑی. کوئی اب بھی رہتا ہو گا ان دیواروں کے بیچ. کوئی پھر سے ان کیفیات سے گزرے گا. اچھا ہے. کل کوئی ہماری باتوں سے بھی ہم خیال ہو سکے شاید. 

جب تک گانا چلتا رہا مجھے ہاسٹل کے کمرے کی دیوار یوں نظر آنے لگی کہ ہاتھ بڑھاؤں گا تو اسے چھو سکوں. اس پر نام بھی یوں ابھرتے گئے جیسے اندھیرے میں اجلا کرنے کو بلب چمک اٹھے. 

پھر گانا ختم ہو گیا. 

For the one who won’t understand the lyrics, I had to translate. For your eyes, you Angreji folk! 

Pal Pal Kar Ajj Lang Jo Rahe
پل پل کر کے آج جو گزر رہے ہیں (گزر جائیں گے)

Mur K Kade Na Eh Din Labne
مڑ کر کبھی نہ یہ دن ملنے ہیں

Yaaraan Nal Lagniyaan Mehfilaan Nahin
یاروں کے ساتھ یہ محفلیں نہیں لگنی

Baith Kar Aa Fer Kinne Bullay Vandne
بیٹھ کر پھر کس نے دکھ بانٹنے ہیں

15 July Nahiyo Bhulni
پندرہ جولائی نہیں بھولی جانی

Jadon Tu Menu Haan Likheya
جب تم نے مجھے ہاں لکھا تھا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Mere Yaaran Wich Vasse Meri Jaan Mithiye
او دلربا! میرے یاروں میں میری جان بستی ہے

Te Tu Ona Ton He Rehndi Pareshaan Mithiye
او دلربا! اور تم ان سے پریشان رہتی ہو

Mere Yaaran Wich Vasse Meri Jaan Mithiye
او دلربا! میرے یاروں میں میری جان بستی ہے

Te Tu Ona Ton He Rehndi Pareshaan Mithiye
او دلربا! اور تم ان سے پریشان رہتی ہو

Kehndi Jatt Nal Soch Ghat Mile
کہتی ہے جٹ کے ساتھ عقل کم ہی ملتی ہے

Tere Lekhya Jina Taa Lihkea
جنہوں نے بھی کہا ایسا تب ہی تو کہا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Ni tu Panditan Di Kudi Te Main Jatt Alhade
تم پنڈتوں کی بیٹی اور میں ٹھہرا جٹ

Sade 4 Lavaan Hon Tere Satt Alhade
ہمارے چار لاوے (سکھ رواج) ہوں اور تمہارے سات (پھیرے)

Ni tu Panditan Di Kudi Te Main Jatt Alhade
تم پنڈتوں کی بیٹی اور میں ٹھہرا جٹ

Sade 4 Lavaan Hon Tere Satt Alhade
ہمارے چار لاوے (سکھ رواج) ہوں اور تمہارے سات (پھیرے)

Ese Gal Da Pauga Sada Raula,
اسی بات پر فساد پڑنا ہے

Akk Ke Main Taiyon Naa Likheya
تنگ آ کر تبھی میں نے نا لکھا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Yaad Kareya Karugi Teri Tang Naddiye
یاد کیا کرے گی تمہاری تنگ لڑکی

Kanni Goonjya Karugi Teri Wang Naddiye
کان میں گونجا کریں گی تمہاری چوڑیاں

Yaad Kareya Karugi Teri Tang Naddiye
یاد کیا کرے گی تمہاری تنگ لڑکی

Kanni Goonjya Karugi Teri Wang Naddiye
کان میں گونجا کریں گی تمہاری چوڑیاں

Naam Preet Da Rakaane Shar-e-Aam Tu Tika Ke
نام پریت کا رکان نے سر عام ٹکا کر

Jehda Baanh Likheya
جو بازو پر لکھا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Vocab:

Preet: Preet Harpal, the singer and lyricist.

Rakaan: A sophisticated, educated and refined young woman.

Naddi: A woman.

Laava: Four prayers which are said at the marriage during a Sikh ritual.

Mithiye: From the word mitha, sugar. Sweetheart.

Alhad: A young woman at the prime of her beauty.