Collision

Meeting a classmate after fifteen years carries an energy that cannot be put into words. I know this because I have experienced this energy. The unexpected moment caused a flood of old memories. The talk dug out names that were buried somewhere in the subconscious. He married once and is now separated. It wasn’t painful, he said, as everything happened before any kids could’ve complicated the matters. He had a crush in school and as a classmate whom he had told even then, it was logical to suggest him that his recent experience of divorce could be a blessing in disguise. So now he could seek truer happiness in his older dream. It made him sad as she settled down years ago and had a team of kids. Now he feels that he has to live with one regret at least, of never even talking to someone who mattered and still matters to him. He showed me a photograph of her husband commenting that her husband didn’t know how lucky of a person he was to have her. Only if he had talked to her once, life could’ve been different. But he didn’t.

Would I too have labelled a man lucky if fate somehow made him the husband of my crush from the school? My mind crashes to compute this possibility as I had no crush in school in the first place. A crush did happen however after the school ended. And that’s exactly why my friend didn’t know of it. I did talk to her. So I will not die of this regret, at least. Life gave other regrets to dip into sad songs and eat, like “biskoots” in tea. Is her husband another biskut? I don’t know. I don’t want to know. Even if that collision was extremely short lived, I am glad it happened. The possibility of someone else, including her, being as crazy as I have become to document fragments of life is near zero, but even then I am bound to be buried somewhere in the subconscious. Maybe, one day she meets an old friend of hers after fifteen years and tells her, “Kinna sohna Munda C, main aiwen nakhray kardi rahi.”

خاموشی

انسان جو سنتا ہے وہی بولتا ہے۔ جو کچھ نہیں سنتے وہ کُچھ نہیں بولتے۔ وہ بھی کُچھ نہیں بولتے جنہوں نے دِل دکھانے والا کُچھ سن لیا ہوتا ہے۔

اقتدار

May 31st, 2021

ہر آمر نے اقتدار کے عرصے کو بڑھانے کی کوشش کی. اس کے لیے جائز اور ناجائز ہر حربے کو استعمال کیا. کچھ نے کرسی کو صرف تب چھوڑا جب جنازہ تیار ہوا. طاقت میں رہنے کی لالچ ہر دوسری لالچ کے جیسی ہے. اس کی سیاہی دل کو اندھا کر دیتی ہے. میری یونیورسٹی کے وائس چانسلر چار بار سیاسی راستوں سے توصیح لے کر ایک عدد عمدہ مثال قائم کر چکے ہیں. ریل کے سفر کے دوران بھی ایسی دیواریں نظر آتی ہیں جن پر عاملوں اور کاہنوں کے اشتہار لکھے ہوتے ہیں. ان ڈھونگیوں کے گاہکوں میں کثیر تعداد ان خواتین کی ہے جن کی گھریلو اقتدار کی لالچ ان کو وہاں تک لے جاتی ہے. وہ لالچ چاہتی ہے کہ شوہر اندھا ہو کر فالج زدہ ہو کے جان سے جاتا ہے تو جائے لیکن اس کرسی پر ان کے بعد کوئی اور نہ بیٹھے جس پر وہ بیٹھ چکی ہیں. کلاس میں یا کالج میں سب سے زیادہ نمبر لینے والوں کی نفسیات بھی لالچ کے ایک رنگ کی ترجمان ہے. پھر اس کی دشمنی لوگوں کو کیوں سمجھ نہیں آتی جو عرصۂ طویل تک سردار رہا. پھر ایک دن اس سے کم خوبیوں والے کو اس کی جگہ بیٹھا دیا گیا. پھر یہ بھی کہا گیا کہ اس آسانی سے بیوقوف بن جانے والے، گناہ کی سکت رکھنے والے کو تعظیم دو. عاشق مزاج ہونے کا کم از کم یہ کمال تو ہے کہ وہ کسی کو کبھی دل کی جنت سے نہیں نکالا کرتے. ان کی جنت میں وہ بھی رہا اور وہ بھی رہا. جو گیا وہ خود سے روٹھ کر گیا. اب بھی پلٹے گا تو دروازوں کو کھلا ہی پائے گا. صرف ایک بار کسی کو خود کے دل کی جنت سے نکالنے کی کوشش کی تھی. مگر ہر تدبیر دھواں ہوئی. شاید اس کا وزن اور حجم اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ دروازوں میں سے اب گزر بھی نہ سکے. شیطان نے ساتھ بیٹھے ہاں میں سر ہلا کر اس جذبے کی قدر کی.

ہاسٹل والا کمرہ / The Hostel Room

May 30th, 2021

وہ شاعر کتنی آسانی سے سمجھ بھی آ جاتا ہے اور پسند بھی جس کو ہم ہم خیال پاتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ وہ گانے بھی ہم بار بار سنتے ہیں جو وہ سب جذبات کہتے ہوں جو ہم نہیں کہے سکتے. ہفتے کے بعد موسیقی کا ایک ڈھیر جمع ہو جاتا ہے جس کو چھانٹ کر صاف کرنے میں ذہن لگتا ہے. یہ کوئی راحت افزا کام نہیں. پھر بھی ہیرے کی تلاش میں بےوقعت کنکروں سے روبرو ہونا پڑتا ہے. ہاسٹل کو چھوڑتے وقت ایک عجیب سی کیفیت تھی. اسے وہی سمجھ سکتا ہے جس نے ہاسٹل کو چھوڑا ہو. کنکروں میں ایک نگینہ مل گیا جو ہاسٹل کی یاد میں تخلیق ہوا. میں نے ہاسٹل کی کسی دیوار پر کسی کا نام نہیں لکھا سواۓ اپنے اور لالے کے نام کے اور وہ بھی غیر موجودگی کی حالت میں ڈاک وصول کرنے کے لیے کمرے کے دروازے پر لکھ رکھے تھے. اس کے باوجود دیواروں پر نام لکھے نظر آئے جب ہاسٹل کو چھوڑنے کا وقت تھا. اس کا نام بھی نظر آیا جس نے ایک چھوٹا سا خط بھیجا تھا اور ساتھ کوئی بیس کے قریب اپنی تصویریں بھی بھیجی تھیں. اس کا نام بھی نظر آیا جس نے رات دو بجے نقلی موچھیں لگا کر قریبی عزیز بن کر ہاسٹل کے کمرے تک پہنچنے کی شرط جیتی تھی. کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ پھر اسے ہاسٹل سے باہر نکالنا کتنا مشکل کام تھا. اس کا نام بھی دکھائی دیا جس نے ہمیں رش سے بچانے کی خاطر اپنی چھٹیاں منسوخ کر کے یونیورسٹی کا چکر لگایا اور اپنی زندگی کی خدا طرفہ بخشی ہوئی برتری کو استعمال کر کے ہمارا وقت بچایا اور پھر وہی وقت خود لے لیا. ایک نام میرا نام لکھنے میں ہمیشہ غلطی کرتا رہا. تب ہی تو اس نام کی طرف سے بھیجا گیا ہر مراسلہ خود جی پی او جا کر وصول کرنا پڑتا تھا. بعد میں مجھے پتا چلا کہ بیچ کا قاصد اس کا ملازم ہے اور وہ ٹھہرا ان پڑھ. ڈاکیا جس عمار کو ڈھونڈنے آتا وہ بھلا اس کو کیسے ملتا. اس کا نام بھی ابھرا جس کی خاطر خدا پرست کو بھی مزار کی زیارت کرنی پڑی. کوئی اب بھی رہتا ہو گا ان دیواروں کے بیچ. کوئی پھر سے ان کیفیات سے گزرے گا. اچھا ہے. کل کوئی ہماری باتوں سے بھی ہم خیال ہو سکے شاید. 

جب تک گانا چلتا رہا مجھے ہاسٹل کے کمرے کی دیوار یوں نظر آنے لگی کہ ہاتھ بڑھاؤں گا تو اسے چھو سکوں. اس پر نام بھی یوں ابھرتے گئے جیسے اندھیرے میں اجلا کرنے کو بلب چمک اٹھے. 

پھر گانا ختم ہو گیا. 

For the one who won’t understand the lyrics, I had to translate. For your eyes, you Angreji folk! 

Pal Pal Kar Ajj Lang Jo Rahe
پل پل کر کے آج جو گزر رہے ہیں (گزر جائیں گے)

Mur K Kade Na Eh Din Labne
مڑ کر کبھی نہ یہ دن ملنے ہیں

Yaaraan Nal Lagniyaan Mehfilaan Nahin
یاروں کے ساتھ یہ محفلیں نہیں لگنی

Baith Kar Aa Fer Kinne Bullay Vandne
بیٹھ کر پھر کس نے دکھ بانٹنے ہیں

15 July Nahiyo Bhulni
پندرہ جولائی نہیں بھولی جانی

Jadon Tu Menu Haan Likheya
جب تم نے مجھے ہاں لکھا تھا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Mere Yaaran Wich Vasse Meri Jaan Mithiye
او دلربا! میرے یاروں میں میری جان بستی ہے

Te Tu Ona Ton He Rehndi Pareshaan Mithiye
او دلربا! اور تم ان سے پریشان رہتی ہو

Mere Yaaran Wich Vasse Meri Jaan Mithiye
او دلربا! میرے یاروں میں میری جان بستی ہے

Te Tu Ona Ton He Rehndi Pareshaan Mithiye
او دلربا! اور تم ان سے پریشان رہتی ہو

Kehndi Jatt Nal Soch Ghat Mile
کہتی ہے جٹ کے ساتھ عقل کم ہی ملتی ہے

Tere Lekhya Jina Taa Lihkea
جنہوں نے بھی کہا ایسا تب ہی تو کہا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Ni tu Panditan Di Kudi Te Main Jatt Alhade
تم پنڈتوں کی بیٹی اور میں ٹھہرا جٹ

Sade 4 Lavaan Hon Tere Satt Alhade
ہمارے چار لاوے (سکھ رواج) ہوں اور تمہارے سات (پھیرے)

Ni tu Panditan Di Kudi Te Main Jatt Alhade
تم پنڈتوں کی بیٹی اور میں ٹھہرا جٹ

Sade 4 Lavaan Hon Tere Satt Alhade
ہمارے چار لاوے (سکھ رواج) ہوں اور تمہارے سات (پھیرے)

Ese Gal Da Pauga Sada Raula,
اسی بات پر فساد پڑنا ہے

Akk Ke Main Taiyon Naa Likheya
تنگ آ کر تبھی میں نے نا لکھا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Yaad Kareya Karugi Teri Tang Naddiye
یاد کیا کرے گی تمہاری تنگ لڑکی

Kanni Goonjya Karugi Teri Wang Naddiye
کان میں گونجا کریں گی تمہاری چوڑیاں

Yaad Kareya Karugi Teri Tang Naddiye
یاد کیا کرے گی تمہاری تنگ لڑکی

Kanni Goonjya Karugi Teri Wang Naddiye
کان میں گونجا کریں گی تمہاری چوڑیاں

Naam Preet Da Rakaane Shar-e-Aam Tu Tika Ke
نام پریت کا رکان نے سر عام ٹکا کر

Jehda Baanh Likheya
جو بازو پر لکھا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Chutt Jana Hostel Wala Kamra Yaaran To
چھوٹ جانا ہے ہاسٹل والا کمرہ یاروں سے

Kandaan Jediya Te Bilo Tera Naa Likheya
جس کی دیواروں پر میں نے تمہارا نام لکھا

Vocab:

Preet: Preet Harpal, the singer and lyricist.

Rakaan: A sophisticated, educated and refined young woman.

Naddi: A woman.

Laava: Four prayers which are said at the marriage during a Sikh ritual.

Mithiye: From the word mitha, sugar. Sweetheart.

Alhad: A young woman at the prime of her beauty.

فرقہ واریت

May 30th, 2021

فرقہ واریت ایک زہر ہے جو وقت اور معاشرہ ہماری رگوں میں آہستہ آہستہ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے. اگر کوئی اس زہر بیچنے والی دکان میں پیدا ہو جائے تو اس کی ذات میں اس زہر کی مقدار زیادہ ہونے کا امکان ہے. کچھ دکانوں کے سامنے سے گزرا تو زہر فروشوں نے اس زہر کو رگوں میں ڈالنے کی کوشش بھی کی جو ناکام رہی. پھر ایک مخصوص فرقے کا ایک شخص تجربات میں کھٹا ذائقہ گھول گیا. اب دل حسب توفیق اس فرقے کے افراد کا جہاں موقع ملتا ہے نقصان کرنے پر آمادہ رہتا ہے. صرف علم کی ایک ڈھال ہے جو بیچ میں رکاوٹ بن کر آ جاتی ہے. کسی دن غصے نے خرد کو دبوچ لیا تو رکاوٹ کا کردار کون کرے گا.

Kiss

May 30th, 2021

Good places for the youth to channel their energies through are near to non-existent in Pakistan. That explains, partly, why many seek refuge in wasting their energies swiping up on their phone screens. They could swipe left or right too but the Government banned that as well. A dress followed by another and then another is the only soothing drug left for many women which society still hasn’t labeled haraam. For men, this rainbow of refuge ranges from bikes and cigarettes to women and drugs. I am thankful to the handful of the storytellers and poets who added the eighth and the ninth color to the rainbow. Everyone rushed to the refuge when a man witnessed and reported a couple kissing on board a flight from Karachi to Islamabad. The world of Twitter got into a frenzy. Being away from my den, capturing this beauty in screenshots in a more organized way was not possible. Everyone turned to the online fish market and became a social analyst. No, this writing is not about right or wrong. Twitter and Facebook are still getting filled with the opinion from both sides. I watch horror movies and wrestling with french fries and coke, so I grabbed them and enjoyed the frenzy from the front row.

The incident reminded me of all the kisses that became permanent. As all kisses are permanent, and we cannot remember all the kisses, this writing cannot be about the permanent ones. It is about a temporary one.

Do you remember your first kiss? I don’t. As a human when we earn our first kiss, we are too young to remember anything. But as a young man, that first kiss made of fires and flames, yes, I remember that. Oh boy, just remembering it altered the taste of my mouth. Summers had faded and evenings were becoming cooler. An ice-cream bar was our rendezvous point. The traffic on the roads was visible from the one-way mirrored windows of the second floor. Suddenly. the noise of the traffic just faded into silence. Even the ice cream started to feel too hot to touch. The edges of my fingers turned numb. I saw even with closed eyes that I couldn’t with the opened ones. The perfume that we wore on us lost its powers. Time started to slow down and then quickened along with the heartbeat. The evening felt like flying back into the warmer summers too. An experience of a non-believer glimpsing life beyond death perhaps. As if a drug that I hadn’t known about suddenly filled the lungs.

The rest of that day is nothing more than a haze in memory. Luckily or not, the world was free from social media, and back then no one bothered to give blankets to those who needed them.

That’s the dilemma with the kisses that follow the first one. Then we stop seeing with closed eyes, unlike the first. We cannot write anything about something we cannot see. Except for God. And love. And pain. And ghosts. I think I should stop as the list is long and my tastebuds are already too contaminated to taste anything else.

Jinxed

May 29th, 2021

Some believe in the idea that a human can be the reason for misfortune. The subcontinent has a fair share of incidents, literature, culture, and crime that a person can be the unlucky reason for calamity, misery, and misadventure. Trigger-happy mothers-in-law label their daughters for any tragedies that they face in life. I never believed in this idea. I still don’t. Yet, once I was really close to becoming a believer. It’s been a while that I had gotten any chance to watch anything in a cinema. The Censor board clears only the trashy movies that have no anti-state or haraam elements. Such movies are a waste of time and money. Things were different in old days. The company was fine which made even trashy movies worth spending time on. A friend who still holds the record for watching the most movies together made me doubt her to be jinxed. Karachi faced serious violence every time we went to a movie. In the latter days, I used to stare at the next-day tickets wondering how many lives would tomorrow’s unrest take. The same violence happened every single time. The cellular coverage was very weak inside the theater and we were not Bollywood admirers, hence there were no intervals in the movies we went to. By the time we used to come out of the theater, the phones kept ringing because of the volume of messages from friends and family about the unrest gripping the city.

Afterward, every time when I was going inside the theater, I thought that it was the last time I was going inside. Innocent people make such good soft targets which the terror groups use to achieve their nefarious agendas. They killed scores on a bus of a minority. They have attacked schools. Cinemas were such excellent targets, they had soft targets which are the perfect ingredients to become statistics on the next day newspapers and they are also anti-Islam evildoers as they go to watch the work of haraam in cinemas where all haraam things happen. During the movie, my attention to the movie used to decline. My brain started to fabricate an attack that was about to happen any instant. In that dark theater, it was not possible to find an escape easily. I kept thinking that at any moment, gunmen would barge in from that small door that was used to let people out after the film ended. The overly creative mind added more gunmen which secured all doors blocking all possible ways to escape. Luckily it never happened.

But one thing happened for sure. An argument. A clash. Violence. Then we stopped meeting and never went to the cinema again. I did go to the movies, even until the world came to know the terms corona and Wuhan. No other friend could play that feeling as she did.

I am starting to believe now that I am jinxed. Am I?