سردیوں کی وہ رات

اس رات بہت بارش ہوئی تھی. میں جلد سو گیا. جب آنکھ کھلی تو میس اور کینٹین بند ہو چکے تھے. میں نے باہر سے کھانا کھانے کا ارادہ کیا اور ہلکی بارش میں کوٹ پہن کر نکل پڑا. کھانے سے فارغ ہو کر جب ہاسٹل واپس پہنچا تو بارش تیز ہونے لگی تھی. بجلی منقطع ہو چکی تھی اور ہر طرف اندھیرا تھا. سردی کی وجہ سے سب جاندار اپنی پناہ گاہوں میں تھے. میں بھی جلد قدم اٹھاتا اپنے کمرے تک پہنچ گیا. اندر کلاس کے کچھ دوست لالٹین جلا کر اس کے گرد جمع تھے. میں نے کوٹ ایک کھونٹی پر لٹکا دیا اور کمبل میں گھس گیا. کچھ لمحوں میں نیند آ گئی. مجھے نہیں پتا کہ میں کتنی دیر تک سوتا رہا لیکن جب آنکھ کھلی تو لالٹین جل رہی تھی اور کمرے میں میرے سوا کوئی نہیں تھا. اب بھی رات کا وقت تھا اور بدستور بارش ہو رہی تھی. کبھی کبھی یوں لگتا ہے کہ میں اب بھی نیند میں ہوں اور کوئی خواب دیکھ رہا ہوں. زندگی کا ہر لمحہ جو اس رات کے بعد سے اب تک گزرا ہے وہ ایک خواب ہے. ایک ایسا خواب جس سے میں جاگ نہیں پایا. لیکن ایک دن آنکھ کھلے اور میں ہر سکھ اور دکھ پھر سے جی سکوں. اب کی بار وہ غلطیاں نہ کروں جو اس بار مجھ سے ہوئیں.