دی ادر سائیڈ | The Other Side

June 6th, 2018

فلمیں دیکھ کر یہ پتہ چلا ہے کہ جنگ کوئی خوبصورت چیز نہیں. میں نے خود تو کوئی جنگ نہیں لڑی لیکن یہ سمجھنے کے لئے کسی جنگ میں جانے کی ضرورت نہیں کہ جنگ کسی جہنم سے کم نہیں. کوئی بھی کتاب اور کوئی بھی فلم ایک جنگ کی حقیقت کے ساتھ انصاف نہیں کر سکتی. بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ سالوں جاری رہنے والی حقیقت جو لوگوں کی زندگی کو تباہ و برباد کر دے وہ دو گھنٹے کی فلم یا دو سو صفحے کی کتاب میں سما جائے . فلم بنانے والا بھی ہمیں صرف وہی چیز ہے دکھاتا ہے جس سے اسکی فلم کامیابی سے چلے اور اس کے پیسے اس کو واپس مل سکیں

 اس رمضان صبح کو جب سب سو گئے تب وقت کاٹنے کے لئے میں نے ایک کتاب کا انتخاب کیا. اس کتاب کا نام دی ادر سائیڈ ہے. مختصر یہی کہ یہ کتاب ذہن کو پریشان کردیتی ہے یہ دو فوجیوں کی کہانی ہے جو ویتنام کی جنگ میں حصہ لینے اپنے ملک سے آئے ہیں. ان میں ایک فوجی امریکی ہے اس کی تربیت اور اسکے حالات دوسرے فوجی سے بالکل مختلف ہیں. یہ امریکہ میں ایک خوش زندگی گزار رہا ہوتا ہے جب ایک اور فوجی کے مرنے پر فوج ا سے ویتنام بھیجنے کا فیصلہ کرتی ہے . یہ ہر حربہ استعمال کرتا ہے کہ اسکا وہاں جانا کسی طرح ملتوی ہو جائے. اس شہر میں جتنی بھی جسم فروش لڑکیاں کام کرتی ہیں یہ کچھ ہی دن میں ان سے تعلقات صرف اس غرض سے بناتا ہے کہ اس کو کوئی ایسی بیماری لگ جائے کہ یہ وہاں جانے سے بچ جائے. یہ اپنے ڈاکٹر کو بھی بتاتا ہے کہ یہ ہم جنس پرست ہے اور فوج میں اس جیسے کی ضرورت نہیں لیکن اس کی وہ ترکیب بھی الٹ پڑ جاتی ہے. دوسرے فوجی نے اپنے گاوں دیہات میں ہونے والی تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا ہے اور اسے اپنے ملک کے لوگوں کی دریا میں تیرتی ہوئی لاشیں اور انکی بھٹکتی ہوئی روحیں نظر آتی ہیں جو اسے کہتی ہیں کہ اس کو اپنے فرض کو نہیں بھولنا اور جنگ میں دشمن کو ہر صورت ہرانا ہے
کہانی میں جنگ میں رونما ہونے والی پر تشدد اور ظالمانہ تباہی کا ذکر ہے. کس طرح یہ جنگ ان دونوں فوجیوں کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتی ہے یہ سب اس کہانی میں واضح ہے. جوں جوں آپ کہانی پڑھتے ہیں آپ کو سمجھ آنے لگتا ہے کہ کیسے اس گھنے جنگل میں دونوں فوجیوں کے کردار بدلتے ہیں. مجھے یہ کہانی پڑھ کر اس لیے بھی اچھا لگا اس کہانی میں کسی ایک مذہب یا کسی ایک ملک یا کسی ایک خیال کو باقی کسی دوسرے خیال پر حاوی نہیں کروایا گیا. انسانی کہانی کے غیر انسانی تجربات بھی بہت خوبصورتی کے ساتھ نظر بند کئے گئے ہیں. تو اگر کوئی جنگ اور خوف اور مافوق الفطرت مخلوق و حالات کے بارے میں کوئی کہانی پڑھنا چاہیےتو یہ کتاب میرا عاجزانہ مشورہ ہے

کم از کم ایک دن کا روزہ کاٹنا تو آسان ہوگا. یہ گرمی کے روزےکسی خوف سے کم تو نہیں