کارڈ

کچھ سال پہلے کسی کو بھیجنے کی غرض سے کارڈ لئے تھے. پھر کچھ ہوا جو اب یاد نہیں. یا پھر میں خود ان سب واقعات کو دل کے شہر کے کسی ایسے ویران کونے میں پھینک آیا ہوں اور وہاں نہیں جانے کی ایسی قسم کھائی ہے کہ بلکل بھول چکا ہوں کہ شہر کا کوئی وہ کونا بھی ہے اور وہاں کیوں آیا کیا بھلانے آیا اور کیا کچھ بھول بیٹھا. لیکن کل شام سردی کی شدت نے کمبل ڈھونڈنے پر مجبور کیا تو ایک ڈبہ کھولتے ہی میں شہر کے اس کونے میں پہنچ ہی گیا. یاد آ گیا کہ کیا دفن کرنے آیا تھا. کسی کو بھیجنے کی غرض سے خریدے hue کارڈ تھے. یہ بھی یاد آ گیا کہ انٹرنیٹ پر کہاں سے آرڈر کیے تھے اور اس کارڈ بنانے والی خاتون نے ان ہاتھ سے بنے کارڈوں کو بھیجنے کے ساتھ کیا کچھ بولا تھا. میں کچھ دیر ان کارڈوں کو دیکھتا رہا. پھر سردی کی شدت بڑھ گئی

Beggar

A beggar visits the street in the evening. I am hearing him for the last five years. For the last two days, he hadn’t come. Since then I have felt as it is not the same life I was living. Or is it? Has he teleported to somewhere or some other life? Why didn’t I hear the voice I had become accustomed to hearing? Is he ill? Is is no more? Or has his mission succeeded if he was a spy living as a beggar? I await to hear the voice again, a voice I don’t know whom it belongs to. But even after all odds, I don’t want to happily accept the instability of life.